{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"28-01-2022| آزاد رائے سازی کی اہمیت؛ اس کی بنیادیں، ذرائع اور حائل رُکاوٹیں","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/09c52546\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":4620,"description":"*آزاد رائے سازی کی اہمیت؛*\r\n*اس کی بنیادیں، ذرائع اور حائل رُکاوٹیں*\r\n*خطبہ جمعۃ المبارک* \r\nحضرت مولانا شاہ \r\n*مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری* \r\n\r\n*بتاریخ*: ۲۴؍ جمادی الاخری ۱۴۴۳ھ/ 28؍ جنوری 2022ء\r\n*بمقام*: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور \r\n\r\n*خطبے کی رہنما آیات قرآنی*\r\n1۔ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا (4- النساء: 174)\r\nترجمہ: ”اے لوگو! تمہارے پاس پہنچ چکی تمہارے رب کی طرف سے سند اور اُتاری ہم نے تم پر روشنی واضح“۔ \r\n\r\n2۔ اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةًؕ-فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ (45-الجاثیہ: 23)\r\nترجمہ: ”بھلا دیکھ تو جس نے ٹھہرا لیا اپنا حاکم اپنی خواہش کو، اور راہ سے بچلا دیا اس کو اللہ نے جانتا بوجھتا، اور مہر لگا دی اس کے کان پر اور دل پر، اور ڈال دی اس کی آنکھ پر اندھیری، پھر کون راہ پر لائے اس کو اللہ کے سِوا، سو! کیا تم غور نہیں کرتے“.\r\n\r\n*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇\r\n✔️ مستقل اور آزادانہ رائے قائم کرنے کی اہمیت \r\n✔️ کلمہ طیبہ؛ آزادانہ رائے، یقین اور اِذعان کا عنوان\r\n✔️ آزادانہ رائے اور گواہی کے مطلوبہ تقاضے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشاہدے کی مثال\r\n✔️ رائے سازی کی مثبت اَساس؛ وحی، علم اور مشاہدہ\r\n✔️ رائے سازی کی منفی اساس؛ وہم، گمان اور خواہشِ نفس \r\n✔️ ناقص علم و اِدراک کے نقصانات اور منفی نتائج\r\n✔️ عقلا و حکما کے نزدیک چار ذرائع علم و ادراک؛ اِحساس، توہم، تخیل اور تعقل\r\n✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی نظر میں پانچواں اِدراک ’’برہان‘‘ عقل سے بلند تر ہے\r\n✔️ انسان کی دو صلاحیتیں؛ قوتِ عاقلہ اور قوتِ عاملہ \r\n✔️ علم و اِدراک میں مشاہدے اور عمل کا کردار اور زمینی حقائق\r\n✔️ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کی ملاقات میں حکمتِ عملی اور حکمتِ نظری کا مظاہرہ\r\n✔️ قوتِ عملیہ، قوتِ عقلیہ اور نفسِ ناطقہ کا کردار \r\n✔️ قوتِ عملیہ اور نفس کی تہذیب؛ انبیائے کرام علیہم السلام کا ہدف\r\n✔️ وہمِ ظلمانی اور وہمِ رحمانی کے اثرات و نتائج کا موازنہ\r\n✔️ عقل اور برہان کی پرواز اور اَپروچ میں جوہری فرق \r\n✔️ رائے قائم کرنے...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}