{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"صیامِ رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصد اور جھوٹ و جہالت کا سیاسی اور سماجی نظام |2024-03-22","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/184a237d\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":4093,"description":"صیامِ رمضان المبارک کے مطلوبہ مقاصد\nاور جھوٹ و جہالت کا سیاسی اور سماجی نظام\nخُطبۂ جمعۃ المبارک:\nحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\nبتاریخ: 11؍ رمضان المبارک 1445ھ / 22؍ مارچ 2024ء\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\nخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و احادیثِ نبوی ﷺ\nآیاتِ قرآنی:\n1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۔ (2 – البقرۃ: 183)\nترجمہ: ”اے ایمان والو ! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں (پہلے لوگوں) پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔\n2۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ۔ (2 – البقرۃ: 185)\nترجمہ: ”سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینے کو تو ضرور روزے رکھے اس کے“۔\nاحادیثِ نبوی ﷺ:\n1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 38)\nترجمہ: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے“۔\n2۔  ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 37)\nترجمہ: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے قیام کرے (عبادت کرے) اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔\n3۔ ”مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْجَهْلَ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَا حَاجَةَ لِلّٰهِ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ“۔\nترجمہ: ”جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے“۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1689)\n۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ \n\nرمضان المبارک کے مطلوب نتائج کے لیے عزم و ہمت اور ارادے کی پختگی کی ضرورت\nکام کی صلاحیتوں اور نتائج کے حوالے سے انسانوں کے تین درجات\nہر عمل کا نتیجہ انسانی روح کے ساتھ چپک جاتا ہے اور اس کا ریکارڈ محفوظ ہو جاتا ہے\nانسان میں ملکیت اور بہیمیت کی نسبت و تناسب اور فکر و کردار پر اس کے اثرات\nبُرے عمل پر ایک اور اچھے عمل پر دس گنا اجر کا حدیثِ نبوی کی روشنی میں فلسفہ\nروزے پر مَلَکیت و بہیمیت کی قوتوں کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کا معاملہ\nجھوٹ بولنے والے بے عمل روزے دار...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}