{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"ماہِ صیام کے حوالے سےجسمانی صحت اور رُوحانی ترقی کی جامع ربانی حکمت کی اہمیت| 28-02-2025","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/1a142af5\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":7627,"description":"ماہِ صیام کے حوالے سےجسمانی صحت اور رُوحانی ترقی کی جامع ربانی حکمت کی اہمیت\nخُطبۂ جمعۃ المبارک\nحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\nبتاریخ: 29؍ شعبان المعظّم 1446ھ / 28؍ فروری 2025ء\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\nخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:\nآیتِ قرآنی:\nيَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ (2 – البقرہ: 183)\nترجمہ: \"اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر  تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ\"۔\nحدیثِ نبوی ﷺ:\n1۔  كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2706)\nترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \"اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا۔ اور روزہ ڈھال ہے\"۔\n ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n✔️ رمضان المبارک کی اہمیت پر جماعتِ صحابہؓ کو حضور اکرم ﷺ کا خطاب\n✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں رمضان المبارک کی فرضیت و اہمیت اور تفسیری خلاصہ\n✔️ رمضان المبارک اور روزے کے حوالے سے حکمتِ ربانی‘ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں\n✔️ شرائع میں فرض، واجب، سنت، مباح اور حرمت کی حکمت اور اس کا پسِ منظر\n✔️ صوم کا لغوی مفہوم اور اس کا انسان کی عقلی، نفسی اور جسمانی کیفیات سے تعلق\n✔️ پیدائش سے موت تک انسان کی تین حالتیں اور رُوح، نفس اور عقل سے ان کا تعلق\n✔️ حکمت کی دو قسمیں: حکمتِ ربانیہ قدسیہ اور حکمتِ تجربی غیر قدسیہ، جس کی بہت قسمیں ہیں\n✔️ روزے کے بارے میں حکما کی انتہا پسندی اور اس کے نتائج و اثرات\n✔️ حکمتِ ربانیہ میں روزے کے اوقات کی حکمت، فوائد اور اس کے اثرات و نتائج\n✔️ روزے کی حالت میں انسان کے نفسِ ناطقہ، نسمہ اور رُوح کی کیفیات کا قرار\n✔️ ہر دور میں روزوں کی فرضیت میں ناگزیریت کے باوجود جسمانی ساخت اور زمانے کا لحاظ\n✔️ روزے کے ذریعے انسانی جسم میں موجود فاسد مادوں کے اخراج کا طبعی عمل اور حکمت\n✔️ روزے کے ذریعے جسم کے اعضا؛ دماغ، دل، گردوں اور جگر کی صفائی کا خود کار عمل\n✔️ روح کی غذا اور اس کی تکمیل صیام النہار اور قیام اللیل میں توجہ الی اللہ سے ہوتی ہے\n✔️ روزے...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}