{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں | 05-06-2026","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/1a3cb51d\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":3936,"description":"بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 19؍ذوالحجہ 1447ھ /05؍ جون 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ(62)۔ (27 –النمل:62)ترجمہ: ”بھلا کون پہنچتا ہے بےکس کی پکار کو جب اس کو پکارتا ہے اور دور کردیتا ہے سختی  اور کرتا ہے تم کو نائب اگلوں کا زمین پر  اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تم بہت کم دھیان کرتے ہو‘‘۔ خطبے کی رہنما حدیثِ نبویﷺ: ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَ قَالَ:\" اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ‘‘۔ ترجمہ : ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘‘۔ [صحيح البخاري‘ حدیث: 2448]🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️  قرآنِ حکیم کا کمال؛ انسانی اجتماعیت کے جملہ پہلوؤں کی واضح تفہیم✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں اللہ کو پکارنے والے مضطرّ (بےبس مظلوم) کی دعا کی قبولیت کا بیان✔️ بےبس اور مظلوم انسانوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے✔️ دعا کی قبولیت کے بنیادی اصول، شرائط اور اسوۂ نبویؐ✔️ متنوّع و مختلف مزاجوں کے مجتمعِ انسانی میں مزاحمت و جدوجہد کی نا گُزِیرِیت✔️ اجتماعی طاقت و قوت ضرور نتیجہ پیدا کرتی ہے✔️ کرۂ ارض میں نسلِ انسانی کی بقاء و حفاظت کے لیے ارضی خلافت کا نظام✔️ انبیاءؑ کا بقاءِ انسانیت، ظلم کے خاتمے کے لیے پکار، جدوجہد اور بے لاگ کردار✔️ مظالم، فتنوں اور مصائب کے دور میں مضطرّ قوم کو اجتماعیت قائم کرنے اور مزاحمتی جدوجہد کا حکم ✔️ تین دعائیں‘ تین لوگوں کے حق میں قبول ہونے کا بنیادی راز✔️ سفر میں اجتماعیت اختیار کرنے کا حکم✔️ خطبے کی مرکزی...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}