{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"رسول اللہ ﷺ کے منصبِ ’’ شہادت‘‘ کے تناظر میں عدلِ اجتماعی کے دینی نظام کا تاریخی تسلسل اور نوآبادیاتی دور کا نظامِ ظلم؛ شعوری دعوتِ فکر | 2024-10-04","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/1b51200f\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":5089,"description":"رسول اللہ ﷺ کے منصبِ ’’ شہادت‘‘ کے تناظر میں\nعدلِ اجتماعی کے دینی نظام کا تاریخی تسلسل\nاور نوآبادیاتی دور کا نظامِ ظلم؛ شعوری دعوتِ فکر\nخُطبۂ جمعۃ المبارک:\nحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\nبتاریخ: 29؍ ربیع الاوّل 1446  / 4؍ اکتوبر 2024ء\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\nخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:\n1۔ ”يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا ‌أَرْسَلْنَاكَ ‌شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًاo (-33 الاحزاب: 46-45)\nترجمہ: اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا، اور خوش خبری دینے والا، اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔\n2۔ وَكَذَلِكَ ‌جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا۔ (-2 البقرہ: 143)\nترجمہ: ”اور اسی طرح ہم نے تمہیں برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو“۔\n۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n0:00 آغاز خطاب\n1:44 انفرادی اور اجتماعی سطح پر سیرت النبی ﷺ سے رہنمائی کی ضرورت\n5:01 گزشتہ دو خطبات کے اظہارِ خیال کا طائرانہ جائزہ اور آج کے عنوان سے ربط\n6:58 آپ ﷺ کا منصبِ شہادت؛ اس کی اہمیت اور تقاضے\n9:23 اُمتِ محمدیہ بھی شہداء علی الناس (انسانیت پر گواہی) کے منصب کی حامل ہے\n14:40 منصبِ ختم نبوت کے ضروری لوازمات اور اس کے بنیادی تقاضے\n18:51 شہادت علی الناس کو بہ طور ایک نظام کے سمجھنے کی اہمیت\n19:44 حکمرانوں، فقہا اور محدثین کا منصبِ گواہی ایک نظام کے ساتھ منسلک ہے\n22:58 فقہائے کرام کا سیاسی اور عدالتی ڈھانچوں کے قیام میں بنیادی کردار\n25:26 ہندوستان میں منو کے طبقاتی قوانین کے اثرات و نتائج\n27:18 قوانین‘ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہوتے ہیں نہ کہ محض خواہشات کا پلندہ\n30:07 حکمرانی اور قانون سازی کے تناظر میں شہادت کا اصلی و حقیقی مفہوم\n32:11 مکے کے فرسودہ نظام اور مدینے کی نئی ریاست کی سیاسی و سماجی اہمیت\n35:04 تحویلِ قبلہ کا حکم اور سیاسی و قانونی حکمت\n37:26 قانون سازی میں دینی تقاضوں، سماجی عوامل اور انسانی اَقدار کی اہمیت و رعایت\n38:33 انسانی اَقدار (بنیادی اُصولِ حکمت) کل انسانیت کی مشترکہ اساس ہوتے ہیں\n41:59 قانونی...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}