{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 36 | کمالِ نوعِ انسان کی اساسیات: ایمان و احسان کا باہمی تعلق، مراتب اور عالمِ لاہوت کی مشابہت کا تحلیلی مطالعہ","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/28a93c62\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":4479,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت\r\n\r\n درس : 36\r\n(دوسرا مقالہ: مبحثِ دوم، فصل؛ 7)\r\nکمالِ نوعِ انسان کی اساسیات: ایمان و احسان کا باہمی تعلق، مراتب اور عالمِ لاہوت کی مشابہت کا تحلیلی مطالعہ\r\nمُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\r\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\r\n بتاریخ : یکم؍ مئی 2024ء /22؍ شوال المکرم 1445ھ\r\n بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\r\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\r\n0:00 آغاز درس\r\n0:16 سابقہ چھ فصلوں کا خلاصہ؛ فطری طور پر ہر انسان کے لیے معرفتِ خداوندی کا حصول ممکن ہے\r\n2:07 فصل (7) میں نوعِ انسان کے کمال کی اساسیات؛ حالتِ ’ایمان‘ اور ’احسان‘ کا بیان نیز ایمان و احسان کا باہمی تعلق\r\n4:36 کمالِ نوعِ انسان کے دو پہلو، ۱) ایمان: علم و ادراک کی لوح (تختی) پر غیر بنی آدم سے ممتاز اور روشن صورتِ الہی کا منقش ہونا اور قطعی طور پر یقین کی کیفیت کا حاصل ہونا\r\n13:18 ۲) احسان: دل میں ایسی حالت کا پیدا ہونا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور عالمِ لاہوت کے رنگ سے رنگین ہو جائے\r\n17:06 ’’صِبغةُ الله تعالىٰ، و تلوُّنه بِلَون اللّاهُوت‘‘ اصطلاحات کی وضاحت\r\n18:11 انسانی قلب پر طاری ہونے والی الہی حالتیں؛ عالمِ لاہوت کی نقل اتارنا (مشابہت اختیار کرنا) اور اس کی طرف جھانکنا ’احسان‘ کہلاتی ہیں\r\n23:46 ایمان و احسان میں بڑا بنیادی فرق\r\n25:42 احسان کی اہمیت: ایمان کا مغز، اس کا منتہا و مقصد\r\n27:32 صفتِ احسان کی حالت کے بغیر‘ انسان کمال حاصل نہیں کر سکتا!\r\n30:12 صفتِ احسان حاصل کرنے والے کے لیے تین لازمی امور:\r\n30:56 (الف) طبعی تشویشات و خارجی تعلقات سے فارغ ہو کر تنہائی میں توجہ الی اللہ اور عالمِ لاہوت کی طرف یکسو ہونا\r\n34:27 (ب) ایمانیات کی علمی تصحیح کا درست طریقۂ کار اختیار کرنا\r\n35:38 (ج) دنیاوی علائق سے تجرد (علیحدگی) اختیار کرکے عالمِ لاہوت (یادِ الہی) کا ذکر، غیر اللہ پر ترجیح اور ایمان و یقین کی کیفیت پیدا کرنا\r\n39:14 اللہ کی عظمتِ شان اور بندوں پر بے پایاں انعامات پر دلالت کرنے والی نشانیوں پر غور و فکر کرنا اور اعضاء (جوارح)، خیال و وہم کو عالمِ لاہوت سے مناسبت یا اس کی مشابہت رکھنے والے کاموں کی طرف لگانا اور اس کی مشق کرنا\r\n44:30 علمِ احسان کا...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/dWeKmPpjEYv-wQhLNAsn68R3DIO6yOGHvKTEMz-kU1o/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS83YTM5/NDUxYWVlMzBlYzZh/ZGNiNmNjM2VkMzYz/NmZmMi53ZWJw.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}