{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 12 | سماحت کی اہمیت، اس کے متضاد سات کرداروں کا تجزیہ اور شجاعت کی حقیقت","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/33975ef6\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":5148,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت\n درس: 12\n(پہلا مقالہ: مبحثِ ثانی، فصل 3)\n(اخلاقِ فاضلہ کے حقائق کا جامع نظریہ)\nسماحت کی اہمیت، اس کے متضاد سات کرداروں کا تجزیہ اور شجاعت کی حقیقت\n مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\nبتاریخ: 07؍ جون 2023ء / 17؍ ذی قعدہ  1444ھ\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n✔️ تیسرا خُلق؛ سماحت کی لغوی و اصطلاحی تحقیق\n✔️ ۱) تنگی و طیش دونوں حالتوں میں انسان کا بڑا پن اور قلبی وسعت \n✔️ ۲) پست عادات و افعال پر کنٹرول اور بچاؤ کی قلبی صلاحیت \n✔️ حضرت علی المرتضیٰؓ کے شعر سے ’’مطلبِ دنیّ‘‘ کی وضاحت\n✔️ رجل سَموح کے بالمقابل سات متضاد بداخلاقیوں کے حاملین کا تحلیل و تجزیہ \n✔️ پہلاآدمی؛ ’’رجلِ غیرِ مُموِّہ‘‘ (کمینگی والی عادات کا اسیر) کی حالت کا جائزہ\n✔️ دوسرا آدمی؛ رجلِ ضُجور (زُود رَنج) اور ردّیّ الرَجاء (ہلاکت، مغلوبیت اور  ذلت پر مبنی پست امیدوں والا) \n✔️ تیسرا آدمی؛ رجلِ شَحیح (بخیل) کی حالت \n✔️ چوتھا آدمی؛ رجل ھَلوع (شر کی صورت میں رونے پیٹنے اور خیر کی صورت میں اکڑنے والا)\n✔️ پانچواں آدمی؛ رجل اِمَّعہ (موقع پرست و مفاد پرست)\n✔️ چھٹا آدمی؛ رجلِ عَبوس (غصے اور غم کی وجہ سے ہر وقت ماتھے پر تیور)\n✔️ ساتواں آدمی؛ ذرا سی بات اور معمولی سی لغزش بھی معاف نہ کرنے والا\n✔️ رجلِ سَموح کی نمایاں صفات و کردار\n✔️ رجلِ سَموح کے انتقامی جذبے کے چار پہلو؛ اجتماعی ظلم، مکمل تیاری، جدوجہد و کوشش اور مصلحتِ کلیّہ\n✔️ عدمِ انتقام کے جذبے کا نام سماحت نہیں!\n✔️ جوّاد (سخی) کی تعریف نیز شریعت میں رجلِ سموح کے لیے ’’الخُلق الحسن‘‘ کی اصطلاح مستعمل\n✔️ حدیث میں حسنِ خُلق (سماحت) اور اچھے پڑوس کے دو وصف\n✔️ چوتھا خُلق؛ شَجاعت (بہادری) کی تعریف\n✔️ بہادری کا تعلق اجتماعی مفاد اور مصلحتِ بالغہ سے ہے\n✔️ محض مصلحتِ کلیّہ اور مفادِ عامہ کا علم حاصل کر لینا شجاعت نہیں!\n✔️ مصیبت و مشقت کے موقع پر کمزور دل آدمی کی بہادری کا معاملہ\n✔️ بغیر مقصد کے لیے مرنے کے لیے اِقدام کرنا شجاعت نہیں!\n✔️ بسا اوقات جنگ سے راہِ فرار بھی بہادری ہے\n✔️ نفسانی خواہشات کا اسیر  بہادر نہیں ہو سکتا!\n✔️...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/M7yo50vd53rg5U2Tj-9Erbihba1K9FFV3UqRSBMIg24/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}