{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 10 | نفسِ ناطقہ میں قلب کی مرکزی حیثیت، اس کے سات احکام اور اخلاقِ فاضلہ سے ربط و تعلق","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/3674046b\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":5587,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت\n درس: 10\n(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)\nنفسِ ناطقہ میں قلب کی مرکزی حیثیت، اس کے سات احکام اور اخلاقِ فاضلہ سے ربط و تعلق\n مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\nبتاریخ: 24؍ مئی 2023ء / 03؍ ذی قعدہ  1444ھ\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n0:00 آغاز خطاب\n0:15 فصلِ دوم کے نصفِ اول کا خلاصہ؛ نفسِ ناطقہ میں قلب کو مرکزی حیثیت حاصل\n3:52  قلب کے احکامات و امور میں پہلا حکم؛ ارادہ\n5:46 اراد ے کی تعریف اور حقیقت\n11:43  دوسرا حکم؛ حکیمِ دماغی کی معلومات یا دلائل پر قلبی اطمئنان  کا نام‘ عقل\n20:56 مشہور جملہ ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ نیز عقل کا مقام\n24:13 عقل و حکمت اور علم و فہم کی حقیقت\n25:35 تیسرا حکم؛ عشق\n27:26 عشق‘ فرطِ محبت کا نام نیز اس کے پانچ درجات\n29:44 عشق کی حقیقت، جسم پر طاری ہونے کا عمل اور قوی و ضعیف قلب کا فیصلہ\n39:25 ذاتِ باری تعالیٰ سے محبت اور محبتِ نفسانی میں فرق\n40:27 چوتھا حکم؛  تیہ و کِبَر اور اِطراح و بے چارگی کی حقیقت\n50:02 پانچواں حکم؛ دل کی رضا و ناراضگی کی بنیادی وجہ \n54:30 چھٹا حکم؛ نشاط و خوشی اور حزن وغم  کی بنیادی حقیقت‘ حکیم و مرزبان کے تناظر میں\n 1:02:06 امام مسلمؒ کی علمی نشاط میں موت واقع\n1:03:09 ساتواں حکم؛ قلبی فصاحت و دیانت (دین و نظریہ قبول کرنے)  کی حقیقت\n1:12:46 دل‘ انسانی ریاست کا سربراہ اور باقی اعضاء اس کی رعیت\n1:14:42 سالک کے قلب کی اصلاح و علاج کی  دو صورتیں\n1:22:19 قلب کے مسلسل افعال و فیصلوں سے خاص ملکہ حاصل ہونے کی علمی تحقیق\n1:28:03 خُلق؛ ملکہ راسخہ کا نام \n1:28:43 نفسِ ناطقہ کی نوعیت کے مطابق ہی اخلاق پیدا ہوتے ہیں\n1:30:50 تمام مذاہب میں انسانیت کے متفقہ و مسلمہ سات اخلاقِ فاضلہ (تفصیلات اگلے درس میں)\nبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔\nhttps://www.rahimia.org/\nhttps://web.facebook.com/rahimiainstitute/\nhttps://www.youtube.com/@rahimia-institute\nمنجانب: رحیمیہ میڈیا","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/M7yo50vd53rg5U2Tj-9Erbihba1K9FFV3UqRSBMIg24/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}