{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 11 | انسانی شخصیت کی تشکیل میں حکمت و عفت کے ارتقائی مراحل کی اہمیت، حکیم الہند امام شاہ ولی اللہؒ کے جامع نظریہ اخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں جائزہ","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/4e01eef6\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":5535,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت\n درس: 11\nانسانی شخصیت کی تشکیل میں حکمت و عفت کے ارتقائی مراحل کی اہمیت، حکیم الہند امام شاہ ولی اللہؒ کے جامع نظریہ اخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں جائزہ\n(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 3)\n مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\nبتاریخ: 31؍ مئی 2023ء / 10؍ ذی قعدہ  1444ھ\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n0:00 آغاز\n0:17 انسان کے مُسلَّمہ سات اخلاقِ فاضلہ\n0:47  اخلاقِ فاضلہ کی پہلی قسم؛ حکمت کی جامع تعریف\n10:51 حکمت کی حقیقت کا منطقِ استقرائی کے تناظر میں جائزہ\n13:08 پہلا مرحلہ؛ ثقیل الروح اور فطین کے فہم و شعور کا فرق\n17:28 دوسرا مرحلہ؛ سفیہ (بےوقوف) اور مُتفہِّم و مُتبصِّر (نفع و نقصان کو سمجھنے والا)\n20:42 فہم اور بصیرت میں فرق و امتیاز\n22:08 تیسرا مرحلہ؛ عدیم الاِحصاء اور مُحصِی و مُدرِک (تمام جزئیات کا ادارک اور جملہ پہلؤوں کوسمیٹنے والے) کے تناظر میں جائزہ\n26:22 چوتھا مرحلہ؛ جامد القریحہ (جمود طبیعت والا) اور ذکی و صاحبِ حدس (ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانے والے سمجھ دار ) میں فرق \n30:22 پانچواں مرحلہ؛ نائم النفس (آرام طلب) اور مُتیقِّظ (چاک و چست اور محنتی) کی حالت\n34:20 چھٹا مرحلہ؛ کثیر السہو والغَفَلات اور ضابط کی حالت کا مشاہدہ\n36:19 ساتواں مرحلہ؛ عدیم الخُبرہ اور خبیر کا حکمت کے تناظر میں فرق\n39:01 صاحبِ حکمت؛ سات خصوصیات کا حامل شخص\n40:17 حضرت سندھیؒ کا ان خصوصیات کی بنیاد پر امام شاہ ولی اللہؒ کو حکیم الہند کا لقب دینا\n41:09 خلاصہ کلام؛ خُلقِ حکمت سے ان سات قسم کی کمیوں و کوتاہیوں کا ازالہ\n43:01 حضرت مؤلف علامؒ کے ہاں حکمت کا دائرہ کار\n49:33 حکمتِ بالغہ کا حامل شخص \n51:15 حکمت‘ علم کی ایک قسم، نہ کہ کسی خاص مسئلے میں کاربند!\n53:41 حکمت؛ ایسی حالت کا نام‘ جس سے دل رنگین ہوتا ہے\n57:16 خطاباتِ نافعہ کی وضاحت\n58:15 علمی صورت کا منقش ہونا یا دور دراز کے احتمالات و تدقیقات کا نام حکمت نہیں!\n59:59 یہاں حکمتِ عملیہ مراد نیز قرآن و سنت میں یہی اسلوب پیش نظر\n1:01:30 اخلاقِ فاضلہ کی دوسری قسم؛ عفّت و پاکدامنی کی تعریف\n1:04:59 عفّت کا تحقیقی جائزہ\n1:07:41...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/M7yo50vd53rg5U2Tj-9Erbihba1K9FFV3UqRSBMIg24/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}