{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"02-02-2024 |استحصالی نظام میں انتخابات کی حیثیت شعوری رائے دہی کے اجتماعی دینی نظام کی روشنی میں","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/587e6777\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":5292,"description":"*استحصالی نظام میں انتخابات کی حیثیت*\n*شعوری رائے دہی کے اجتماعی دینی نظام کی روشنی میں*\n*خُطبۂ جمعۃ المبارک:*\nحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n*بتاریخ:* 21؍ رجب المرجب 1445ھ / 2؍ فروری 2024ء\n*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)، لاہور\n*خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ :*\n*آیتِ قرآنی:*\nیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ (59 – الحشر: 18)\nترجمہ: ”اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے، اور چاہیے کہ دیکھ لے ہر ایک جی (انسان) کیا بھیجتا ہے کل کے واسطے، اور ڈرتے رہو اللہ سے، بے شک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو“۔\n*حدیثِ نبوی ﷺ :*\n”مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ، ومَنْ رَضِيَ عَمْلَ قَوْمٍ؛ كان شريكَ مَنْ عَمِلَ بِهٖ“۔\n(شرح البخاری للقسطلانی، ج: 1، ص: 185)\nترجمہ: ”جو کسی قوم کی تعداد و کثرت کو بڑھائے، وہ انہی میں سے ہے، اور جو کسی قوم کے عمل کو قبول کرکے رضا مند ہوا، وہ گویا اس کے عمل میں شریک ہے\"\n*۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* \n￼\n0:00 آغاز\n1:21 دینِ اسلام کی تعلیمات کی جامعیت و وسعت اور عصری تقاضے\n2:43  انبیا علیہم السلام کی جدوجہد اور کردار کی ہمہ گیریت اور عملی نتائج\n6:01  معیشت میں ظلم اور استحصال کے نقصانات اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے فوائد\n8:02  مسخ شدہ یہودیت کا اصل چہرہ اور انسانیت دشمن بھیانک کردار\n11:44  حکومت و ریاست کا حقیقی کردار اور منصفانہ طرزِ حکومت کی ضرورت و اہمیت\n15:24 علم و فکر اور تقویٰ کا حقیقی تصور، اس کے اثرات اور عملی تقاضے\n18:57 آج کے یہود اور بنی اسرائیل کا مدینہ سے یہودیوں کے اخراج کے واقعات پر قیاس مع الفارق\n21:36  اجتماعی سطح پر سیاسی و معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت و اہمیت\n29:19  مسلمان قیادت اور منافقین و یہود کے لیڈروں کے رویوں کا فرق\n 34:46 خطبے کی مرکزی آیت میں سیاسی نظام کی تشکیل کا بنیادی اُصول بیان ہوا ہے\n 36:59 مستقبل کی حکومت و اقتدار پر غور وفکر کرنا کوئی غیر شرعی امر نہیں\n 40:04  مستقبل کی حکومت کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنا درست امر ہے\n44:04   حضرت عمر فاروقؓ کا اہم خطاب اور حکمرانوں کے انتخاب کے حوالے سے رہنمائی\n48:03 مشاورت کے بغیر کسی شخص کو حکمران بنانا...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}