{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 20 | حکمتِ تعامُلیہ اور حکمتِ تعاوُنیہ: ارتفاقِ ثانی کی روشنی میں معاشی معاہدات اور تعاون باہمی کا ولی اللہی فلسفہ","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/6e383ed3\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":5516,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت\n درس : 20\n(پہلا مقالہ: مبحثِ رابع فصل؛ 9، 10)\n حکمتِ تعامُلیہ اور حکمتِ تعاوُنیہ: ارتفاقِ ثانی کی روشنی میں معاشی معاہدات اور تعاون باہمی کا ولی اللہی فلسفہ\n مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\n بتاریخ : 20؍ ستمبر 2023ء / 03؍ ربیع الاول  1445ھ\n بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n✔️ حکمتِ تعامُلیہ؛ تبادلۂ اَشیاء اور تبرُّع کی حقیقت\n✔️ حجة اللہ البالغہ کی روشنی میں حکمتِ تعامُلیہ کے تین دائرے؛ مُبادَلات، مُعاوَنات اور اَکساب\n✔️ محبت و الفت‘ انسانوں میں تعاونِ باہمی اور تعلقات جال کی مانند ہیں\n✔️ تبرُّع کی چند صورتیں\n✔️ مُبادَلہ و مُعامَلہ کی سات صورتیں؛ بَیع، اِجارہ، ھِبہ، اِعارہ، دَین، سَلَم اور قرض\n✔️ دَین کی تعریف نیز قرض اور دَین کا جوہری فرق\n✔️ دَین کی دو صورتیں؛ سَلَم اور قرض\n✔️ جس معاملے میں سود یا جوے کی شکل موجود ہو، وہ ناجائز ہے\n✔️ مُعامَلات و مُبادَلات کے دو بنیادی مقاصد اور پانچ اساسی اصول\n✔️ 1) مبیع و ثمن یا اجرت و منفعت میں جہالت اور دھوکہ دہی سے اجتناب\n✔️ 2) باہمی رضا مندی سے فریقین کا ایجاب و قبول\n✔️ 3) مجلسِ عقد میں فریقین کو معاملے پر غور و فکر کرنے کی کھلی چھوٹ جیسے؛ خیارِ مجلس، خیارِ عیب اور خیارِ شرط\n✔️ 4) اجارے میں مدت مقرر کرنا اور سَلَم میں اوصاف کا متعین کرنا ضروری\n✔️ 5) عاقِدَین عقل مند اور معاملات کا فہم رکھتے ہوں\n✔️ معاملات میں کتابت، گواہ مقرر کرنے اور رھن رکھنے کی وجوہات اور ضرورت و اہمیت\n✔️ باہمی مُعامَلات میں  قِمار (جوئے) اور ربوا (سود) کی ممانعت و حرمت کی بنیادی وجہ\n✔️ رشوت کی ممانعت  \n✔️ نقصان دہ پیشوں اور اور حکمرانوں سے متعلق ”حجة اللہ البالغہ“ کی اہم عبارت کی وضاحت\n✔️ ۱) پیشوں کا تعین، مِلکِیّت کی تحدید اور  تبادلۂ دولت کے لیے شہری حکومت کا قیام لازمی\n✔️ ۲) زرعی معیشت میں صنعت کاروں اور انتظامیہ کا حجم بڑھنا اور زراعت کے عمل کو چھوڑ دینا‘ تباہی کا باعث\n✔️ ۳) نقصان دہ پیشوں کو روکنا اور سوسائٹی کے لیے مفید پیشوں کو رواج دینا‘ ریاست کے ذمہ داری\n✔️ ۴) ریاست و مملکت کی خرابی و بربادی کا بڑا سبب: ضروری...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/M7yo50vd53rg5U2Tj-9Erbihba1K9FFV3UqRSBMIg24/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}