{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 33 | باری تعالیٰ کی صفاتِ سبعہ اور مؤمن کے مطلوبہ تصورات","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/7e9e0fd9\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":4136,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت\r\n\r\n درس : 33\r\n(دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 3)\r\nباری تعالیٰ کی صفاتِ سبعہ اور مؤمن کے مطلوبہ تصورات\r\nمُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\r\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\r\n بتاریخ : 28؍ فروری 2024ء /17؍ شعبان المعظم 1445ھ\r\n بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\r\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\r\n0:00 آغاز درس\r\n0:17 تیسری فصل میں اللہ تعالیٰ کی سات صفات کی شرح و تفصیل کا بیان\r\n1:33 ذاتِ باری تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کا مطالعہ اور شرح سمجھنے کے لیے مؤمن کے مطلوبہ چار تصورات\r\n6:13 ’اللمحات‘ کی عبارت سے صفاتِ باری تعالیٰ کی تفہیم و تشریح کا بنیادی ضابطہ\r\n12:54 اہم علمی بحث؛ مُقیّد جزئی اور ناقص مفہوم کلیّ کے علاوہ  نسمہ مکمل طور پر علم کا احاطہ نہیں کر سکتا!\r\n18:18 نسمۂ انسانی کے لیے معرفتِ خداوندی اور اس کی یکتائی کے اظہار کا واحد طریقۂ کار\r\n24:32 ۱) حیات و جماد کی تعریف کی روشنی میں صفت ’’الحیّ‘‘ کی  تشریح و توضیح\r\n33:31 ۲) صفت ’’العلیم‘‘ کی شرح\r\n39:25 ۳،۴) صفت ’’السمع و البصر‘‘ کی وضاحت؛ بغیر ذرائع و آلات کے مُبصَرات و مَسموعات کا انکشافِ تامّ  \r\n43:30 ۵) صفت ’’الارادة‘‘ کی توضیح و تشریح\r\n44:30 خیال کا پہلا مرحلہ‘ ھاجس اور اس کی تعریف\r\n 46:42 خیالات کے مجموعے کا نام‘ عزم و ارادہ نیز ارادۂ الہی کا مطلب و مفہوم\r\n50:23 ’حجة اللہ البالغہ‘ میں ارادۂ مُتجدِّدہ کی بحث کی طرف اشارہ نیز فلاسفہ و معتزلہ کی فرسودہ علمی بحث کا ردّ\r\n55:51 ۶) صفت ’’القدرة‘‘ کی شرح، قادر؛ کام کرنے یا نہ کرنے کا مکمل اختیار اور قدرت کا حصول\r\n1:00:26  ۷) صفت ’’الکلام‘‘ کی (وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ الآیة) کی روشنی میں وضاحت\r\n1:06:23 صفاتِ باری تعالیٰ غایات (نتائج) کے اعتبار سے ثابت ہیں نہ کہ مبادی (آلات و ذرائع) کے پہلو سے\r\n1:06:50 مُتکلِّمین کے ہاں ’’کلامِ نفسی‘‘ کی بحث کا درست مطلب\r\n1:07:57 مقامِ جبروت کی سات صفاتِ ذاتیہ کی نسمۂ انسانی کے تناظر میں شرح و تفصیل اور اگلی فصل میں ’الاسماء الحسنیٰ‘ پر بحث\r\n\r\nبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/dWeKmPpjEYv-wQhLNAsn68R3DIO6yOGHvKTEMz-kU1o/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS83YTM5/NDUxYWVlMzBlYzZh/ZGNiNmNjM2VkMzYz/NmZmMi53ZWJw.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}