{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 19 |  حکمتِ اکتسابیہ اور قانونِ معاش: امام شاہ ولی اللہؒ کے اصولِ مکاسب کی روشنی میں ارتفاقات، پیشہ ورانہ مہارت اور ریاستی نظم کا تجزیاتی مطالعہ","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/a4dca03c\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":5655,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت\n درس : 19\n(پہلا مقالہ: مبحثِ ثالث فصل؛ 8)\nحکمتِ اکتسابیہ اور قانونِ معاش: امام شاہ ولی اللہؒ کے اصولِ مکاسب کی روشنی میں ارتفاقات، پیشہ ورانہ مہارت اور ریاستی نظم کا تجزیاتی مطالعہ\n مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\n بتاریخ : 13؍ ستمبر 2023ء / 26؍ صفر المظفر 1445ھ\n بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n0:00 آغاز درس\n0:16  فصل: ۸ میں حکمتِ اکتسابیہ (وسائل معاش کی حکمت و طریقۂ کار اور معاشی قوانین) کا بیان\n2:44 اکتساب اور معاشی محنت کا مطلب و مفہوم\n5:45 اکتساب و معاشی محنت کی سائنس کے دو امور کی رعایت ضروری\n9:53 تمام ضروریات کو بوجہ احسن پورا کرنے کے لیے مناسب معاشی محنت اور پیشہ اختیار کرنا ضروری\n13:38 ایسا پیشہ اور اجتماعی سرگرمی اختیار نہ کرنے کے بھیانک نتائج\n17:17 مختلف پیشے اپنانے اور اختیار کرنے کا بنیادی سبب\n20:14 درپیش حاجات کو پورا کرنے کے لیے فلاحت، حدادت و نجارہ وغیرہ کی پیشہ ور مہارتوں کی ایجاد\n33:54  پیشوں کی ایجاد کی بنیادی وجہ؛ ارتفاقِ ثانی میں ایک گھرانے کا اپنی تمام معاشی ضرورت کو اکیلے پورا کرنا ممکن نہیں!\n35:18 ارتفاق ثانی کی سطح پر مختلف مہارتوں اور سکلز کے حامل پیشہ ور افراد کی ضرورت و اہمیت\n41:54 کثرتِ حاجات کی بنیاد پر آلۂ مبادلہ اور زرِّ حقیقی (سونا و چاندی) کی ناگزیریت\n50:26 ارتفاقِ ثانی کی جماعتوں کے نظم و نسق اور نزاع کے خاتمے کے لیے ریاست و حکومت کی ضرورت\n51:45 ارتفاقِ ثالث کے درجے میں ہر شعبے کے لیے حکومتی معاونین کی ضرورت\n53:25 تین بنیادی پیشے؛ زراعت، صنعت اور تجارت \n55:41 مملکت کی مصلحتوں کو قائم کرنے والے چند پیشے؛ مققنہ، عدلیہ اور انتظامیہ وغیرہ\n56:46 حکومت کا قیام‘ تین بنیادی شعبوں کو ترقی سے ہمکنار کرنا ہے \n57:16 سوسائٹی میں تعیّشات کے بڑھنے سے غیر ضروری ذیلی شعبے وجود میں آتے ہیں\n59:16 شاہ صاحبؒ کا اصولِ مکاسب کی روشنی میں چھ اہم ترین پیشوں کا استقراء و تتبّع\n1:04:56  لوگوں کے مختلف پیشے اختیار کرنے کی دو بنیادی وجوہات\n1:05:43 پہلی وجہ؛ انسان کا جسمانی قوت، ذہنی صلاحیت اور اپنی طبیعت کے مطابق پیشہ...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/M7yo50vd53rg5U2Tj-9Erbihba1K9FFV3UqRSBMIg24/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}