{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"تعمیری رویوں اور معاشرے کی تشکیل میں قرآن حکیم کی تلاوت،اس کے نظامِ حکمت اور صفتِ احسان کا اَساسی کردار| 2024-07-28","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/acb1edff\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":3120,"description":"تعمیری رویوں اور معاشرے کی تشکیل میں قرآن حکیم کی تلاوت،اس کے\nنظامِ حکمت اور صفتِ احسان کا اَساسی کردار\nتکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم\nخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\nبتاریخ: 21؍ محرم الحرام 1446ھ / 28؍ جولائی 2024ء\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور \nخطاب کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیث نبوی ص:\nآیاتِ قرآنی\n1۔ ‌هُوَ ‌الَّذِي ‌أَرْسَلَ ‌رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔ (9 – التوبہ: 33)\nترجمہ: ”اس (اللہ تعالیٰ) نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگر چہ مشرک نا پسند کریں“۔\n2۔ ‌وَكُونُوا ‌مَعَ ‌الصَّادِقِينَ۔ (9 – التوبہ: 119)\nترجمہ: \"اور ہو جاؤ سچوں کے ساتھ\"۔\nحدیثِ نبوی ﷺ:\n”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (الجامع الصحیح للبخاری، حدیث: 5027)\nترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔\n۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ \n\nتمہیدی گفتگو\nقرآن حکیم کے حوالے سے ہماری روز مرہ حکمتِ عملی اور ترجیحات کیا ہونی چاہئیں\nتلاوتِ قرآن حکیم کے حوالے سے غلط فہمی کا ازالہ اور تلاوتِ قرآن کی اہمیت\nتلاوتِ قرآن حکیم کے حوالے سے عقلی ترغیبات اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشادات\nصوفیائے کرام کے اقوال اور مجالس کے لیے مریدین اور معتقدین کا اہتمام\nقرآن حکیم کی تلاوت اور تفہیم کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خصوصی ارشاد\nروزانہ قرآن حکیم کی تلاوت کے معمول کا شخصیت سازی میں اہم ترین کردار\nقرآن حکیم دین کے مکمل نظامِ فکر و عمل کی دعوتِ فکر و عمل دیتا ہے\nقرآن حکیم عبادات سمیت انسانیت کے مسلمہ اقدار کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے\nقرآن حکیم ابدی سچائیوں کے عملی نظام کو قائم کرنے کا ایک لائحۂ عمل دیتا ہے\nمحض لفاظی اور گفتگو کے بجائے قرآنی تعلیمات کے مطابق اپنی تربیت پیش نظر رہے\nتربیت اور رویوں کی تبدیلی اور تعمیر میں صفتِ احسان کا بنیادی کردار\nقرآن حکیم کے چار بنیادی اُمورِ تربیت: تلاوتِ قرآن، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیۂ نفس\nعلمائے حق کا قرآنی اُمورِ تربیت کے حوالے سے بنیادی کردار و عمل\nغلبے کے لیے طاقت و جبر کے بجائے حکمت، موعظت اور محبت زیادہ مؤثر ہوتی ہے\nعلم کا تکبر اور نظم و...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}