{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 25 | مُعلِّمِ خیر کا ولی اللہی تصور، مقاصد، شرائط، اوصاف اور طریقۂ کار","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/d7b42bfb\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":4734,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت\n درس : 25\n(پہلا مقالہ: مبحثِ خامس فصل؛ 15)\nمُعلِّمِ خیر کا ولی اللہی تصور، مقاصد، شرائط، اوصاف اور طریقۂ کار\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\n بتاریخ : 13؍ دسمبر 2023ء / 28؍ جمادی الاولیٰ  1445ھ\n بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n✔️ سوسائٹی کی تعمیر و ترقی کے لیے تعلیم و تربیت کی ضرورت و اہمیت\n✔️ فصل کا دائرہ کار؛ تعلیم و تربیت کے بنیادی مقاصد، طریقہ کار اور اساتذہ کے فرائضِ منصبی\n✔️ ’مُعلِّم الناس بالخیر‘ کا پہلا ہدف و مقصد؛ اخلاق کی درستگی اور ارتفاقِ ثانی و ثالت کے نظم و نسق کی تعلیم و تربیت\n✔️ مُعلِّمِ خیر کا دوسرا ہدف و مقصد؛ تقرّبِ بارگاہ الہی کی ایسی حالت جس سے آخرت منظم اور درست ہو\n✔️ اعلی تعلیم کے دو پہلو اور انہیں حاصل کرنے کا طریقۂ کار\n✔️ مقاصدِ تعلیم کی روشنی میں قومی تعلیمی نظام کا جائزہ\n✔️ مُعلِّمِ خیر کی چند بنیادی شرائط و اوصاف؛\n۱۔ سراپا عدل ہو\n۲۔ کامل اخلاق کا حامل\n۳۔ دنیاوی لذات کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے والا ہو\n۴۔ مخلوق سے خیر خواہی کا جذبہ رکھتا ہو\n۵،۶۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پیروکار ہو\n۷،۸۔ کتاب و سنت کا حافظ اور ان کی حکمتوں کا متبحر عالم ہو\n۹،۱۰۔ وسیع ظرف اور بڑی ہمت والا\n۱۱۔ ہدایت یافتہ اور دوسروں کو سیدھا راستہ دکھانے والا ہو\n۱۲۔ عمل کے اعتبار سے اعتدال و توازن والا\n۱۳۔ اچھی طبیعت اور دیانت دار ہو، گہری حکمت اور عقل شعور رکھنے والا ہو\n۱۶۔ ان پہلؤوں پر نظر ہو جس سے لوگ اس کی تابع داری اختیار کریں\n۱۷۔ با وزن و باوقار ہو\n✔️ طریقۂ تعلیم و تربیت اور اس کے آداب؛\n✔️ الف) افراد کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو\n✔️ ب) گہری باتوں کا استعمال نہ ہو\n✔️ ج) تعلیم و تربیت کا طریقہّ کار خطابی ہو\n✔️ تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت کے تین بنیادی ارکان ؛ 1) سچے تاریخی واقعات اور قصوں سے فساد دنیا و آخرت پر تنبیہ اور حسنِ انتظام پر ترغیب\n✔️ ’’القول الجمیل‘‘ میں عالمِ ربّانی کے امور اور ذمہ داریاں\n✔️ ’’التفہیماتُ الالہیة‘‘ میں فاسق واعظین و عبادت گزاروں اور خانقاہ نشینوں سے شاہ ولی اللہؒ کا سخت خطاب اور وعظ و نصیحت\n✔️ 2) کلی طور پر اچھے ریاستی نظام کے فوائد اور نظامِ ظلم کے مفاسد کی تعلیم و...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/dWeKmPpjEYv-wQhLNAsn68R3DIO6yOGHvKTEMz-kU1o/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS83YTM5/NDUxYWVlMzBlYzZh/ZGNiNmNjM2VkMzYz/NmZmMi53ZWJw.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}