{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ | 31-07-2026","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/dbf26abc\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":6640,"description":"اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ\nخطبۂ جمعۃ المبارک\n خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n بتاریخ : 16؍صفرالمصفر ۱۴۴۸ھ / 31؍ جولائی 2026ء\n بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\nخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:\nآیاتِ قرآنی:\n1۔ اِنَّمَا  اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ  لِکُلِّ  قَوۡمٍ  ہَادٍ (13 -رعد:7)\nترجمہ : ”تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا“ ۔\n2۔ اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ  مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ (28 -قصص:76)\nترجمہ : ”قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر“۔\nحدیثِ نبویﷺ:\nوَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ:”خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ، فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ، وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ“. رَوَاهُ فِي\"شَرْحِ السُّنَّةِ\". \nترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”معاملے پر غور و فکر کر، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر “۔  (مشکوٰۃ المصابیح :5057)\n🔸 خطبۂ جمعہ: نکات\n✔️ قرآن کے ذریعے کچھ اقوام کامیاب اور کچھ اس کی ہدایات کو پسِ پشت ڈال کر گمراہ\n✔️ قرآنِ حکیم کا بنیادی موضوع‘ اقوامِ عالم نیز گزشتہ انبیاء کی تعلیمات فرد، خاندان اور قوم کی ترقی اور کامیابی کے لیے تھیں\n✔️ تورات اور قرآن کی تعلیمات اور حضرت موسیٰؑ و حضورؐ کی جدوجہد  کا دائرہ کار\n✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی دو آیات کی روشنی میں قومی و بین الاقوامی نظام کے خط و خال اور تشکیل\n✔️ آپؐ کا ہدف؛ قومی تعصبات سے بالاتر تعلیم و تربیت، جماعت کی تیاری اور قومی اساسیات\n✔️ زوال کا سبب؛ قومی مفادات کے اجتماعی نظام سے بغاوت اور اغیار کی آلہ کاری\n ✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں بنی اسرائیل کی قومی شناخت توڑنے والے قارون کا منفی اور باغیانہ کردار کا ذکر\n✔️ باغی کی وضاحت کے تناظر میں قارون کی قومی بغاوت، حضرت موسیٰؑ کی توہین اور تعلیمات کے انکار کی سزا...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}