{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"خطبات","title":"سچ اور جھوٹ کے نظاموں کے بارے میں قرآن حکیم کی تقابلی رہنمائی اور بُرائی کے دائرے میں محصور پاکستانی معاشرہ| 2024-07-26","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/e44b85b6\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":4765,"description":"سچ اور جھوٹ کے نظاموں کے بارے میں قرآن حکیم کی تقابلی رہنمائی اور\nبُرائی کے دائرے میں محصور پاکستانی معاشرہ\nخُطبۂ جمعۃ المبارک:\nحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\nبتاریخ: 19؍ محرم الحرام 1446ھ / 26؍ جولائی 2024ء\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور \nخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:\nآیاتِ قرآنی:\nفَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ ‌وَكَذَّبَ ‌بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَo وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَo (39 – الزمر: 32-33)\nترجمہ: ”پھر اس سے کون زیادہ ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور سچی بات کو جھٹلایا، جب اس کے پاس آئی، کیا دوزخ میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ہے! اور جو سچی بات لایا اور جس نے اس کی تصدیق کی، وہی پرہیزگار ہیں“۔\nحدیثِ نبوی ﷺ:\n”إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا۔ (الجامع الصّحیح للبخاری، حدیث: 6094)\nترجمہ: ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ”صدیق“ کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف، اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں ”بہت جھوٹا“ لکھ دیا جاتا ہے۔“\n۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ \n\nجھوٹ ایک معاشرتی خرابی، جس سے معاشرہ جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے\nسورت زمرکی آیات میں دو جماعتوں کے رویوں کا تذکرہ کیا گیا ہے\nاللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے اور بہتان باندھنے والے لوگوں کی حقیقت\nخبر اور واقعات کو نقل کرتے ہوئے حقیقتِ حال کے مطابق بات کرنا سچ ہوتا ہے\nانسانی کیفیت اور جذبات کو مادی چیزوں کی طرح نہیں ناپا جاسکتا\nجھوٹ اور سچ کا بنیادی فلسفہ اور دونوں کے سماجی اور اُخروی نتائج\nتمام شرائع اور جملہ اجتماعی ضابطوں کا مرکزی محور بر واثم (نیکی اور گناہ) ہوتا ہے\nامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک بر و اِثم یعنی نیکی اور گناہ کا اجتماعی...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/VbhPPNw5eTvMM3SNt3lKFNvndcG8KspYotZ_r5KLkYE/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9zaG93/LzIzMjk3LzE2NzM3/MDE3NDgtYXJ0d29y/ay5qcGc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}