{"type":"rich","version":"1.0","provider_name":"Transistor","provider_url":"https://transistor.fm","author_name":"دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ","title":"البدور البازغہ | 09 | نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ","html":"<iframe width=\"100%\" height=\"180\" frameborder=\"no\" scrolling=\"no\" seamless src=\"https://share.transistor.fm/e/ff301867\"></iframe>","width":"100%","height":180,"duration":4567,"description":"امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت\n درس: 09\n(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)\n(نفسِ ناطقہ اور قلب  کی حقیقت و دائرۂ کار)\nنفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ\n مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری\n مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة\nبتاریخ: 17؍ مئی 2023ء / 26 شوال المکرم 1444ھ\nبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور\n ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇\n پچھلے درس کا خلاصہ؛ پہلی فصل میں فلسفۂ اخلاق کا بیان\n✔️ دوسری فصل کے عنوان (نفسِ ناطقہ اور قلب) کی وضاحت\n✔️ نفسِ ناطقہ حقیقت؛ روح ملکوتی اور روح حیوانی کے باہمی ملاپ کا مرکز\n✔️ نفسِ ناطقہ فرد کی ”صورتِ شخصیہ“ کا نام\n✔️ صورۃِ شخصیہ کا پہلا انحصار جسم لطیف (نسمہ) پر ہے\n✔️  ”نسمہ“ کی اصطلاحی وضاحت\n✔️ نسمہ کی تعریف؛   کثیف بدن میں سرایت کر جانے والا لطیف و مربوط  بدن\n✔️  قوتوں اور اخلاق کے تناظر میں جسم میں نسمہ بننے کا عمل\n✔️ دل سے خون کے ایک حصے کی دماغ  کی طرف سپلائی اور حواسِ خمسہ ظاہرہ و باطنہ سے مخصوص افعال و احکامات کا اظہار\n✔️ حواسِ خمسہ باطنہ کے احکامات پورے جسم سے تعلق رکھتے ہیں \n✔️ دل سے خون کے ایک حصے کا جگر کی طرف بہاؤ نیز تین اعضائے رئیسہ اور بدنی قوتوں کے افعال و اعمال\n✔️  قوائے قلب و دماغ کے باہمی تشابک کی وضاحت\n✔️ نسمہ ایک ”شہری نظام“، دل صورتِ شخصیہ کا ’’حاکم و بادشاہ‘‘ اور جگر ”محافظ“\n✔️ اور دماغ دل کا ’’وزیر‘‘ اور حواسِ ظاہرہ و باطنہ دماغ کے جاسوس\n✔️ قلب کی حقیقت؛ خود مختار حاکم، حکم نافذ العمل اور ماتحتوں کے لیے نافرمانی ناممکن\n✔️ مملکتِ شخصیہ کے نظام کی تباہی و بربادی؛ ماتحت (جگر و دماغ) کا دل (سردار) پر حاوی ہونا\n✔️ طاقت ور مُعاونین کے ہاتھوں مجبور اور کمزور دل کے فیصلوں کا تحلیل و تجزیہ\n✔️ وزیر کے کارندوں کی بغاوت اور کمزور دل کا بے اعتدالی و گناہ کا فیصلہ\n✔️ مضبوط دل‘ جگر و دماغ اور اس کے کارندوں کے غلط تقاضوں کو ردّ کر دیتا ہے\n✔️ تبدیلی نظام کے لیے انقلابِ ذات کی ناگزیریت\n✔️ انقلابِ ذات کے لیے قلب کی مضبوطی لازمی نیز مضبوطی قلب کے اذکار و اشغال\n✔️ مضبوط و مستحکم  دل والوں کی جماعت ہی  صحیح نظام بنا سکتی ہے\nبروقت مطلع ہونے کے...","thumbnail_url":"https://img.transistorcdn.com/M7yo50vd53rg5U2Tj-9Erbihba1K9FFV3UqRSBMIg24/rs:fill:0:0:1/w:400/h:400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.webp","thumbnail_width":300,"thumbnail_height":300}