*قرضوں کی معیشت اور اس کی تباہ کاریاں؛*
*اسلامی تناظر میں اس کا حل*
*خطاب:*
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
*مؤرخہ:* 16؍ رجب المرجب 1444ھ / 8؍ فروری 2023ء
*بمقام:* آئی بی اے (IBA) یونیورسٹی، سکھر، سندھ
*۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇
2:03 عصرِ حاضر میں قومی و ملّی مسائل کے حل کے لیے تعلیمی اداروں میں دینِ اسلام کی تعلیمات کو علمی انداز میں سمجھنے سمجھانے کی ضرورت و اہمیت
7:34 تبادلۂ دولت کی ارتقائی تاریخ اور تجارت میں سونا و چاندی کو بہ طورِ زر کے تخلیق کرنے کی ضرورت و اہمیت
13:21 قرض کی حقیقت، تجارت، قرض اور اجارہ میں بنیادی اُمور کا فرق اور اُن کے مقاصد و اہداف
17:43 قرآن و حدیث میں تجارت، اجارہ (کراء الارض وغیرہ) اور قرض (عقدِ تبرُّع) کی وضاحت
21:35 قرضوں کی معیشت اور کاروبار کی حقیقت اور اس کی ممانعت میں قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات
25:32 ایڈم سمتھ کا نظریۂ زر اور سرمایہ دارانہ نظام میں زر کو کیپٹل کا حصہ بنانے اور قرضوں کی معیشت کے دنیا پر مہلک اثرات و نتائج
31:04 حدیث نبویؐ میں اشیائے ستہ (چھ چیزوں)کی خرید و فروخت سے ممانعت کی اصل وجہ اور دینِ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں زر کا عالمی نظام
34:52 عالمی تجارت میں کرنسی، قرضوں کا ظالمانہ کاروبار، قیامِ پاکستان سے قرضوں کی معیشت اور اسلامی بینکاری کا مکروہ دھندہ
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/