دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت درس : 34 (دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 4) اللہ تعالیٰ کے الاَسماءُ الحُسنٰی: معنی، مفہوم اور کائنات کی تخلیق و تدبیر میں ان کے کار فرما نظام کا مطالعہ مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة بتاریخ : 17؍ اپریل 2024ء /08؍ شوال المکرم 1445ھ بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز درس 0:15 دوسرے مقالے کی پہلی تین فصلوں کا خلاصہ اور چوتھی فصل سے ربط و تعلق 2:38 صفاتِ باری تعالی اور الاَسماء الحسنیٰ میں بنیادی فرق کی وضاحت 8:17 الاَسماء الحسنیٰ کی تشریح و توضیح 9:33 ’’هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‘‘ اسمِ ذات؛ لفظ اللہ کی شرح 13:26 ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‘‘ (تخلیقی سرگرمیوں اور فیصلوں کے نفاذ میں اللہ کا کوئی شریک نہیں) 18:11 نظامِ کائنات بنانے اور چلانے میں اللہ کا کوئی شریک نہیں! 19:47 ’’الرحمن الرحیم‘‘ (نظامِ کائنات میں شفقت و مہربانی کے ساتھ تمام مخلوقات کو ہر ہر چیز عطا کرنے والی ذات) 25:49 ’’الملك‘‘ (شہنشاہ مطلق) کی وضاحت 29:27 ’’القُدُّوس‘‘ کا معنی و مفہوم 31:28 ’’السّلام‘‘ کا مطلب 35:12 ’’الُمؤمِن‘‘ ، ’’المُھیمن‘‘ (ہلاکت خیزی، گھبراہٹ اور خوف سے مامون و محفوظ بنانے والی ذات) 40:05 ’’العزیز‘‘، ’’الجبّار‘‘، ’’المُتکبّر‘‘ کا مطلب و مفہوم 46:43 ’’الخالق‘‘، ’’البارئ‘‘، ’’المُصوِّر‘‘ اسماء حسنیٰ کا تعلق دائرۂ تخلیق و تصویر سے ہے 50:06 ’’الغفّار‘‘ ، ’’القھّار‘‘ کی وضاحت 52:19 ’’الوھّاب‘‘، ’’الرّزّاق‘‘، ’’الفتّاح‘‘ (دنیا و آخرت میں ہر خیر و بھلائی کا فیضان و ھبہ کرنے والی ذات) 53:12 ’’العلیم‘‘ (کائنات کے مربوط نظام کا کوئی گوشہ ذات باری تعالیٰ سے مخفی نہیں) 55:54 ’’القابض‘‘، ’’الباسط‘‘، ’’الخافض‘‘ اور ’’الرّافع‘‘، ’’المُعِزّ‘‘، ’’المُذِلّ‘‘ ایک دوسرے کے متضاد اوصاف و اسماء 57:40 ’’السّمیع‘‘ ، ’’البصیر‘‘ کا مطلب و مفہوم 1:00:50 ’’الحَکَم‘‘ ، ’’العَدَل‘‘ کا معنی 1:02:08 ’’اللّطیف‘‘ کبھی ’رحیم‘ اور کبھی ’علیم‘ کے معنی کے لیے آتا ہے 1:03:07 ’’الخبیر‘‘ کی وسعت میں ’علیم‘ سے زیادہ باریک بینی اور مبالغہ ہے 1:04:07 ’’الحلیم‘‘ (غلطیوں و کوتاہیوں پر درگزر کرنے والا) 1:04:35 ’’العظیم‘‘ ، ’’الغفور‘‘ ، ’’الشّکور‘‘ کی توضیح و تشریح 1:06:40 ’’العلیّ‘‘ ، ’’الکبیر‘‘ عظیم القدر کے معنی میں، ’’الحفیظ‘‘ (حافظ)، ’’المُقیت‘‘ (رزّاق)، ’’الحسیب‘‘ (کافی)، ’’الجلیل‘‘ (بزرگ)، ’’الکریم‘‘ (سخی) 1:07:25 ’’الرّقیب‘‘ (اپنے بندوں کی نگرانی کرنے والا)، ’’المُجیب‘‘ (حاجت روا)، ’’الواسع‘‘ 1:08:56 ’’الحکیم‘‘ (حکمت کی اساس پر نظام کائنات کے افعال سرا نجام دینے والی ذات )، ’’الودود‘‘ (اطاعت گزاروں سے مُحبّین والا معاملہ کرنے والا) 1:09:45 ’’المَجید‘‘ (شرفِ بزرگی میں بلند تر ذات)، ’’الباعث‘‘ (مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے والا)، ’’الشَّھید‘‘ (حاضر، عالم اور ناظر) 1:10:36 ’’الحق‘‘ (ثابت اور موجود ذات) ، ’’الوکیل‘‘ (بندوں کے امور کی نگرانی کرنے والا) 1:11:36 ’’القویّ‘‘ ، ’’المتین‘‘ (ایسا طاقتور جس کے فیصلے کو کوئی ٹالنے والا اور اس کے حکم کو کوئی ردّ کرنے والا نہیں) 1:11:55 ’’الولیّ‘‘ کبھی ’’الودود‘‘ کے معنی میں اور کبھی ’’الوکیل‘‘ کے معنی کے لیے آتا ہے 1:12:26 ’’الحمید‘‘ (تمام عیوب اور آفات سے بلند تر ذاتِ قدوس)، ’’المُحصی‘‘ (پوری مخلوقات کے جملہ افعال و اعمال کو محفوظ بنانے والی ذات) 1:13:29 ’’المُبدئ‘‘ ، ’’المُعید‘‘ اور ’’المُحیی‘‘ ، ’’المُمیت‘‘ (موت و حیات پیدا کرنے والا) 1:14:06 ’’الحیّ‘‘ (زندہ) ، ’’القیّوم‘‘ (آسمان و زمین کو قائم و دائم رکھنے والا) 1:15:03 ’’الواجد‘‘ (سخی)، ’’الماجد‘‘ (معزز)، ’’الواحد‘‘ (اکیلا)، ’’الصّمد‘‘ (سردار)، ’’القادر‘‘ ، ’’المُقتَدر‘‘ (ہر شے پر گرفت رکھنے والا) 1:15:51 ’’المُقدِّم‘‘ ، ’’المُؤخِّر‘‘ ، ’’الاوّل‘‘ ، ’’الآخر‘‘ ، ’’الظّاھر‘‘ ، ’’الباطن‘‘ کا مطلب 1:16:42 ’’الوالی‘‘ (بادشاہ)، ’’المُتعالی‘‘ (مقدّس)، ’’البرّ‘‘ (بندوں پر احسان کرنے والا)، ’’التّواب‘‘ (ہر رجوع کرنے والے پر رحم کرنے اور اسے قرب عطا کرنے والی ذات) 1:17:11 ’’المُنتقِم‘‘ (انتقام اور درگرز کرنے والا)، ’’الرّؤف‘‘ (مہربان)، ’’مالک المُلک‘‘ ، ’’ذوالجلال والاکرم‘‘ ، ’’المُقسِط‘‘ (عدل و انصاف کرنے والا) 1:17:52 ’’الجامع‘‘ (حشر کے دن سب کو اکٹھا کرنے والا)، ’’الغنی‘‘ (آسمانوں و زمین کے خزانوں کا مالک) 1:18:28 ’’المُغنی‘‘ ، ’’المانع‘‘ ، ’’الضّارّ‘‘ ، ’’النّافع‘‘ کا معنی و مطلب 1:19:07 ’’النّور‘‘ ، ’’الھادی‘‘ (بندوں کو حق کی ہدایت و رہنمائی کرنے والی ذات)، ’’البدیع‘‘ کے دو معنی 1:19:40 ’’الباقی‘‘ (ہمیشہ رکھنے والا)، ’’الرّشید‘‘ (اپنے افعال و اوامر میں رشد و حکمت والی ذات) ، ’’الصُّبور‘‘ (بردبار) 1:20:08 احادیث سے ثابت شدہ تمام اسماء حسنیٰ کا نظامِ کائنات میں جاری افعال و اوامرِ الہی کے تناظر میں جامع تعارف 1:21:03 انبیاء علیھم السلام کا قائم کردہ نظام‘ اسماء و صفات الہی کا مظہر ہوتا ہے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

What is دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ?

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’اَلبُدُورُ البَازِغَۃ‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت
مُدرِّس:
ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور