خطبات

معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور قومی خودداری کی دینی بنیادوں پر ملکی نظام کا قیام: وقت کی ناگزیر ضرورت

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

بتاریخ: 3، محرم الحرام 1448ھ /19، جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ (38) وَ الَّذِیْنَ اِذَااَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ(39) وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(40) وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ(41) اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(42) وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ (43)
سورۃ الشوریٰ42: (38-43)
ترجمہ: اور وہ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور ان کا کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ دیا بھی کرتے ہیں، اور وہ لوگ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پس جس نے معاف کر دیا اور صلح کر لی تو اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو کوئی ظلم اٹھانے کے بعد بدلہ لے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا، بے شک یہ بڑی ہمّت کا کام ہے۔


خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
03:46  دینِ اسلام بطور جامع نظامِ ہدایت
07:57  منشائے خداوندی اور انسانی معاشرے سے گروہیت کا خاتمہ
10:02  معاشی وسائل پر تسلّط کا ردّ اور ان کی مساوی  دستیابی کا الٰہی نظام
13:33  ’انسانیت‘ کا حقیقی مفہوم: انسانی صلاحیتوں کی درست نشاندہی اور ان کا اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال میں لانا
16:09  قیامِ اجتماعیت کے لیےنبوی جامع نظامِ تربیت  کا کردار اور بطورِ نمونہ عقدِ مواخات کی مثال
17:38  قیامِ اجتماعیت میں تعاونِ باہمی کی اہمیت اور توکّل علی اللہ کے ساتھ اس کا ربط
22:39  رسول اکرمﷺ کا اعلیٰ نظامِ تربیت اور اس کا عمدہ ترین نمونہ جماعتِ صحابہؓ
26:12  دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: خداوند تعالیٰ کی مکمل اطاعت کا اعلان اور نظامِ صلٰوۃ کا قیام
27:24  دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: انسانی معاشرے میں رزق کی تقسیم کا مساوی نظام
30:19  دینی احکام (عبادات و معاملات) کے ذریعے اجتماعی شعور کے پروان اور قیامِ اجتماعیت کے اہتمام کا فروغ
31:01  غیر طبقاتی بنیاد پر اجتماعِ انسانیت کے قیام کی دینی ضرورت و اہمیت
34:55  اسوہ نبویﷺ میں عقدِ مواخات کے ذریعے انسانی آبادی اور تقسیمِ وسائل میں توازن کااہتمام
37:33  قومی خودمختاری کا حصول اور قومی وسائل پر انحصاری کا لازم و ملزوم ربط
39:12  دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: مشاورت کے ذریعے رائے سازی کا نظام
41:46  اسلامی دنیا کے زوال کی بنیادی وجوہات: معاشی وسائل پر اغیار کا قبضہ اور آزاد رائے سازی کا فقدان
46:16  رسول اللہﷺ کے قائم کردہ معاشرے کے اہم ستون: معاشی خودمختاری اور آزاد رائے سازی کا اہتمام
49:41  دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: قومی خودداری کی بنیاد پر دشمن سے مقابلہ کی حکمت عملی
53:09  قرض کے معاملہ میں حد درجہ احتیاط کا اسوہ رسولﷺ اور مروّجہ نظام کی قرضائی معیشت پالیسی
56:13  قرآنی اصولوں کی روشنی میں موجودہ معاشرے کا تجزیہ
01:01:49  قرآنی اصولوں پر قائم معاشرے کی خصوصیات اور حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کی مثال
✔ ایرانی قوم کی قرضائی معیشت کی بجائے معاشی وسائل کی تقسیم اور قومی خودمختاری پر انحصار کے ذریعے ترقی کی زندہ مثال

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا

What is خطبات?

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان
Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan
w: www.rahimia.org
FB: @rahimiainstitute