دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت درس : 38 (دوسرا مقالہ: مبحثِ دوم، فصل؛ 9، 10) جبلی معرفتِ الٰہی ، محبت و تعظیم ، تذلل اور عبادت کا فطری فلسفہ اور نماز کی حقیقت مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة بتاریخ : 29؍ مئی 2024ء /20؍ ذی قعدہ 1445ھ بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز درس 0:17 سابقہ فصول کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ فصل (9) میں جبلی معرفتِ الٰہی کے اثرات و نتائج کا بیان 2:52 بنیادی قاعدہ: انسان اپنی ’مُنعِم‘ و’مُحسِن‘ ذات سے فطری و طبعی طور پر محبت رکھتا ہے 3:46 عبادت کی فلسفہ؛ انسان کا دو پہلؤوں سے اپنے رب کی صحیح معرفت حاصل کرنا اور اس کے نتیجے کے طور پر عبادت بجا لانا 8:08 عقلی دلیل: انسان بلکہ جانور بھی فطری طور پر اپنے مُنعِم مُتکفِّل (ضروریات و سہولیات فراہم کرنے والے) سے محبت کرتے ہیں 9:41 پہلی مشاہداتی مثال: شکاری نعمتیں بہا کر شکار کو مانوس کرتا ہے 10:48 دوسری مثال میں انسانی فطرت کی بنیادی خصوصیت ’وفاداری‘ سے مزید وضاحت 15:12 ذاتِ باری تعالیٰ سے محبت کا اعلی درجہ؛ حالتِ الہی کا طاری ہونا اور اس کے رنگ میں رنگنا 18:11 محبتِ الہی کی حالت پیدا کیے بغیر محض عقلی و برہانی طور پر محبت ناکافی ہے 19:50 محض عقل کی اساس پر محبتِ خداوندی کے نقصانات: سیدھے راستے سے ہٹنا اور فطرت مسخ کر دینا 24:20 دورِ غلامی کا المیہ اور ولی اللہی فکر و عمل کی امتیازی حیثیت خصوصیت 27:10 انسانی فطرت: انسان ’محبت کی حالت‘ پر پیدا ہوا ہے، محض محبت کی علمی صورت پر نہیں! 27:38 امام شاہ رفیع الدینؒ کے رسالہ؛ ’اسرار المحبة‘ میں محبت پر لاجواب گفتگو 28:58 انسان اپنے ہم جنس (حیوانات) سے احوال طاری ہونے میں موافقت رکھتا ہے 30:23 علمی احاطہ اور حالت طاری ہونے میں بڑا فرق ہے 31:51 انسان پر خاص حالت طاری ہونے سے قلب و جوارح میں عجیب ربط و تعلق کی وضاحت 38:05 پہلی مثال: جانور میں تیہ اور غرور سے گردن کا اکڑنا اور عاجزی و انقیاد کے وقت گردن کا جھک جانا 39:32 دوسری مثال میں انسان کے غصے و غضب کی حالت سے وضاحت 41:09 انسانی کی شہوت آمیز محبت کی حالت کی مثال 42:21 انسان کی تعظیم آمیز محبت کی حالت: تذلل اختیار کرنا، رخسار خاک آلود کرنا اور اپنی پیشانی کو مٹی پر رگڑنا 43:52 عبادت کی حقیقت و فلسفہ 44:56 عمومی مشاہدہ: تمام انسانوں کا اپنے احوال اور معبود کے مختلف ہونے کے باوجود عبادات پر اتفاق 46:17 جب کوئی اپنی حاجت ولیِ نعمت کے سامنے پیش کرتا ہے یا اس کی نعمتیں یاد کرتا ہے تو وہ اضطراراً عبادت و تذلل کی طرف لپکتا ہے اور طبعی طور پر عبادات کی ممکنہ صورتیں ایجاد کر لیتا ہے 47:56 عبادت کی ممکنہ عملی صورتیں 49:06 انسان کا ’محبت بالتعظیم‘ کی جبلی حالت کے اظہار کے لیے خود بخود مناسب اعمال و افعال کی طرف میلان اختیار کرنا 54:03 عبادتِ الہی‘ انسان کا فطری عمل 54:37 عبادت کے دو پہلو: (اوّل) دل میں اللہ کی انتہاء درجے کی عظمت و محبت کا بندھ جانا 56:25 عبادت کا دوسرا پہلو: ہر قسم کی حاجات اور ضرورتوں کے لیے اللہ کے سامنے گِڑگِڑانا 58:29 شرک و کفر کا تعلق بھی ان دو دائروں سے ہے 1:01:00 فصل (10) میں معاشروں میں مروج اور انسانی طبیعتوں میں راسخ‘ عبادات کی سات مشہور قسمیں 1:05:19 عبادت کی پہلی قسم، نماز کا فلسفہ: افعال اور ھیئات (طریقے)، ایمانی کیفیت اور اطاعت و تعظیم کے حالت میں تلازم، ظاہری و باطنی حالت اور ان کا باہمی تعلق 1:10:52 عبادات و نماز میں عاجزی کے ممکنہ تین پہلو 1:12:59 بہترین اور معیاری نماز، اوقات کی حکمت اور قبولیت کی شرائط بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

What is دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ?

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’اَلبُدُورُ البَازِغَۃ‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت
مُدرِّس:
ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور