خطبات

”اَکْل بِالبَاطِل“ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

 بتاریخ : 9؍ صفر المظفّر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
 بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
 خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ- اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا- وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)
سورۃ  النساء 4: (29-30)
 ترجمہ : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو، اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو شخص تعدّی (سرکشی) اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔

 ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 
✔  انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کا الٰہی نظام
✔  معیشت میں تعاونِ باہمی اور تبادلہ اشیاء کا نظام
✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ کا مفہوم
✔ حدیثِ نبویﷺ کی روشنی میں ’’بِرّ‘‘ کی وضاحت
✔ ’’اِثم‘‘ کا مفہوم
✔ منصبِ قضا اور اِفتاء کا دائرہ کار اور بنیادی ذمہ داریاں
✔ رزقِ حلال اور دینِ اسلام میں نیکی کا نظام
✔ مالِ حرام سے صدقہ دینے کا حُکم
✔ موجودہ معاشرے میں ٹیکسز کا ’’لاقانونی“ ظالمانہ نظام
✔ ملکی عدمِ استحکام کی اہم وجہ: قومی معیشت سے محروم نظام
✔ موجودہ معاشرہ میں ’’اکل بالباطل‘‘ کے وسیع تر نظام کی سفاکیّت
✔ بالواسطہ ٹیکسز اور بِھیک کے فروغ پر مبنی قومی معاشی نظام  کی زبوں حالی
✔ ’اکل بالباطل‘ پر مبنی منظم نظام کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ پر قائم موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کی تباہ کاریاں
✔ موجودہ فرسودہ معاشی نظام کے شعوری تجزیہ کی ضرورت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (�)  آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

What is خطبات?

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان
Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan
w: www.rahimia.org
FB: @rahimiainstitute