خُطباتِ خلافت
بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ
خُطبہ 38:
فصل پنجم: (حصہ دوم)
خلافتِ خاصہ (فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن کا بیان
احادیث و آثار کی روشنی میں تیس بنیادی اُمور
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 20؍ رمضان المبارک 1445ھ / 31؍ مارچ 2024ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔
احادیث و آثار کی روشنی میں فتنۂ شہادتِ عثمانؓ سے پہلے و بعد کی حالت: تیس بنیادی اُمور کی نشان دہی
8) ذاتِ باری تعالی کے متعلق سوالات کی بہتات
9) دینِ اسلام میں بیگانہ علم: اسرائیلیات کا اختلاط اور خرابیاں
قرآن حکیم کی جامعیت و اَبدیت اور تمام الہامی کتابوں کا محافظ
10) تقرّبِ بار گاہِ الٰہی کے لیے نئے نئے اَوراد و وَظائف کا اختراع، نفل کو واجب کا درجہ دینا اور کسی انفرادی وِرد کو مستقل وظیفہ بنا کر اس کی دعوت کا عمل؛ گمراہی کا نیا دروازہ
11) خلیفہ و حکمران کی اجازت کے بغیر وعظ و نصیحت و فتوے جاری کرنا
علامہ شہرستانی کے مؤقف کی تردید
دورِ فتن کے اختلافِ رائے کو سنت قرار دینا مفسدہِ عظیمہ اور شاہ صاحبؒ کا تجدیدی کارنامہ
12) مسلمانوں کے درمیان جنگ و جدال اور قتل و غارت گری کا شروع ہونا
13) حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد سلفِ صالحین پر سبّ و شتم
14) مسلمانوں میں افتراق و انتشار اور مختلف فرقوں میں تقسیم ہونا
15) خوارج کا ظہور، نیز ان کی تاریخ، پسِ منظر اور منفی طرزِ عمل
16 و 17) قدریہ و مرجئہ کا پیدا ہونا
18) روافض کا پیدا ہونا، نیز حضرت علیؓ سے بغض اور محبت میں غلو کرنے والوں کا معاملہ
فکرِ اسلامی میں خرابی کا مرکز اور تمام گمراہ فرقوں کا منبع یہی چار فرقے (خوارج و روافض اور قدریہ و مرجئہ)
What is Khutabat e Khilafat?
خطبات خلافت بسلسلہ افکار امام شاہ ولی اللہ
رمضان المبارک 1443
مقرر: مفتی عبد الخالق آزاد رایٗے پوری ، مسند نشین سلسلہٗ عالیہ رحیمیہ رایٗے پور۔
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان
Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan
W: www.rahimia.org
FB: @rahimiainstitute
Twitter: @rahimia